اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر سے لَبیِک اَللہ ہُمَہ لَبیِک کے نعروں کے بیچ فریضہ حج2014کی ادائیگی کیلئے ریاستی عازمین کا پہلا قافلہ خصوصی پرواز کے ذریعے سرینگر ائیر پورٹ سے براہ راست مدینہ شریف روانہ ہوگیا۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے 275عازمین کو روانگی کے موقع پر الوداع کرتے ہوئے ان کے پرسکون اور بسلامت مقدس سفر کیلئے دعا کی ۔ اس دوران حج ہاوس بمنہ سرینگر اور سرینگر ائیر پورٹ نعرہ تکبیر اللہ اکبر اور لبیک الھم لبیک کے فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھا حج2014کے تحت جموں وکشمیر کے عازمین کا پہلا قافلہ سرینگر سے براہ راست مدینہ روانہ ہوا ۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ ، حج و اوقاف کے وزیرپیر زادہ محمد سعید، ممبر ریاستی حج کمیٹی ڈاکٹر شہناز گنائی کے علاوہ کئی اعلیٰ سیول و پولیس حکام سرینگر ائیر پورٹ پر موجود تھے ۔وادی کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے275عازمین حج ہاوس واقع بمنہ سرینگر میں بدھوار کو علی الصبح پہنچے جبکہ ان کے ساتھ سیکڑوں کی تعداد میں ان کے رشتہ دار بھی تھے ۔ حج ہاوس تک سفر کے دوران عازمین حج کے رشتہ داروں نے نعرہ تکبیر اللہ اکبر کے فلک شگاف نعرے بلند کئے جبکہ حج ہاوس کے گردونواح میں روح پرور مناظر دیکھنے کو ملے ۔ سٹی رپورٹرکے مطابق 275عازمین حج کی روانگی کے سلسلے میں تمام لوازمات حج ہاوس میں مکمل کی گئیں جبکہ سیکورٹی کلیرنس کے ساتھ ساتھ انہیں سعودی کرنسی (ریال) فراہم کئے گئے اور ان کی روانگی سے متعلق تمام لوازمات کو مکمل کرلیا گیا ۔ بدھوار کو نماز فجر ادا کرنے کے ساتھ ہی مختلف علاقوں سے عازمین حج ہاوس پہنچنا شرو ع ہوئے جبکہ یہاں پہلے ہی تمام انتظامات کو مکمل کرلیا گیا تھا اور ریاستی حج کمیٹی کے تمام ذمہ داران یہاں موجود تھے ۔ کے این این نمائندے کے مطابق مسافر بردار گاڑیوں بشمول بسوں ، ٹاٹا سومو گاڑیوں اور نجی گاڑیوں میں عازمین اپنے قریبی رشتہ داروں کے ہمراہ قطار در قطار حج ہاوس بمنہ پہنچے جہاں ان کی روانگی سے متعلق تمام لوازمات کو پورا کر لیا گیا ۔ نمائندے کے مطابق حج ہاوس میں تمام ضروری لوازمات کو پورا کرنے کے بعد خصوصی گاڑیوں میں سوار کر کے275مرد وزن عازمین کو سرینگر ائیر پورٹ کی طرف روانہ کیا گیا ۔ اطلاعات کے مطابق سرینگر کے ہوائی اڈے پر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے عازمین کے ساتھ فرداً فرداً مصافہ کیا ۔ وزیر اعلیٰ نے تمام عازمین کی خیر و عافیت دریافت کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں حج کے دوران امن وامان اور وطن کی خوشحالی کیلئے خصوصی دعائیں کرنے کی استدعا کی ۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے عازمین سے انہیں فراہم کی جارہی سہولیات کے بارے میں بھی جانکاری حاصل کی ۔ کے این این نمائندے کے مطابق سرینگر کے ہوائی اڈے پر انڈین ائیر لائنز کے خصوصی طیارے میں ریاست جموں وکشمیر کے275عازمین جب سوار ہورہے تھے تو اُس وقت بھی نعرہ تکبیر اللہ اکبر اور لبیک الھم لبیک کے فلک شگاف اور روح پرور نعرے بلند کئے جارہے تھے ۔
اطلاعات کے مطابق سرینگر کے ہوائی اڈے سے 275ریاستی عازمین کو لیکر انڈین ائیر لائنز کا خصوصی طیارہ مدینہ شریف کی طرف روانہ ہوا۔ واضح رہے سنہ2012 میں سرینگر سے سعودی عرب کیلئے براہ راست حج پرواز کا اہتمام کیا گیا تھا جس کے باعث ریاستی عازمین کو کافی راحت پہنچی جبکہ مختلف حلقوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی کامیاب کوشش کی سراہنا کی ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق امسال ریاست جموں وکشمیر سے 7007عازمین فریضہ حج کیلئے سعودی عرب جارہے ہیں جبکہ 300 عازمین پرائیویٹ ٹراول ایجنسیوں کے ذریعے فریضہ حج کی ادائیگی کیلئے روانہ ہونگے ۔ اس دوران ریاستی حج کمیٹی کے ایک افسر نے کے این این کو بتایا کہ آنے والے دنوں میں روزانہ دو خصوصی حج پروازیں سرینگر سے مدینہ شریف کی طرف روانہ ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ 28اگست کو ان دونوں پروازوں میں 275عازمین حج سفر محمود پر روانہ ہونگے اور یہ سلسلہ 12ستمبر تک جاری رہے گا۔ ادھرنیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے ریاستِ جموں و کشمیر کے اُن عازمین کو مبارک باد پیش کی جو آج سے سفر محمد پر روانہ ہوئے۔ انہوں نے تمام عازمین حج سے اپیل کی کہ وہ مناسک حج کے دوران اور مدینہ شریف میں قیام کے دوران عالم اسلام کی سربلندی، عالم انسانیت کی بقاء اور خاص کر ریاست کے مکمل و امن کی بحالی کیلئے دعا کریں۔ اُنہوں نے کہا حج کا فریضہ اسلام کے 5ستونوں میں سے ایک ہے اور یہ اللہ کی طرف مسلمانوں کیلئے ایک نعت ہے ، جس سے بندگانِ خدا سعادت حاصل کرسکتے ہیں ۔ انہوں نے ریاستی حج کمیٹی اور مرکزی حج وزارت سے اپیل کی کہ وہ عازمین کیلئے تمام تر سہولیات دستیاب رکھیں خصوصاً قیام و طعام کیلئے معقول انتظامات دستیاب رکھیں۔ اور اس سلسلے میں کوئی بھی شکایت نہیں آنی چاہئے۔ انہوں نے مرکزی حج کمیٹی سے کو ہدایت کی کہ وہ حجاج کرام کی نگرانی اور دیگر لوازمات پورا کرنے میں کوئی بھی دقیقہ فروگزاشت نہ کریں
.......
/169